ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی بی ایم پی حدود میں بچوں کے کووڈ معا ملات میں اضافہ نہیں نرم اور درمیانی علامات رکھنے والے بچوں کا گھروں میں ہی علاج جاری:رندیپ

بی بی ایم پی حدود میں بچوں کے کووڈ معا ملات میں اضافہ نہیں نرم اور درمیانی علامات رکھنے والے بچوں کا گھروں میں ہی علاج جاری:رندیپ

Thu, 19 Aug 2021 14:00:22    S.O. News Service

بنگلورو،19/اگست(ایس او نیوز) بروہت بنگلورو مہا نگر پا لیکے(بی بی ایم پی)کے اسپیشل کمشنر رندیپ نے بتا یا کہ بی بی ایم پی حدود میں بچوں میں کووڈ معا ملات میں اضافہ نہیں ہوا ہے بلکہ اکثر بچوں میں نرم اور درمیانی کووڈ معا ملات نظر آرہے ہیں جن کا گھروں میں کا میاب علاج کیا جا رہا ہے۔بی بی ایم پی حدود میں کووڈ پر قابو پانے ڈاکٹر بابو جگ جیون رام سرکاری اسپتال کے لئے شلپا سنگھ اور پارسا سنگھ کی جانب سے بچوں کی سہولت کی خا طر طبی ساز وسامان فراہم کر تے ہو ئے رندیپ نے اس خیال کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتا یا کہ کووڈ معا ملات کے تحت اسپتالوں میں داخل بچوں کی تعداد بے حد کم ہے اس سلسلہ میں متعلقہ علاقوں میں بسنے والے مکینوں کی بہبود تنظیموں کو رہنما خطوط جاری کر کے بچوں پر نگاہ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔انہوں نے بتا یا کہ کووڈ کے پیش نظر ڈاکٹر بابو جگ جیون رام اسپتال میں فیور کلینک،ٹریاز سنٹر قائم کئے گئے تھے اور اب 30بستروں کی صلاحیت والا چلڈرن کیئر سنٹر قائم کیا گیا ہے جس میں 2آئی سی یو بیڈ،8ایچ ڈی یو بیڈ،20آکسیجن سہو لت کے بستروں کا انتظام کیا گیا ہے۔انہوں نے بتا یا کہ اس سنٹر میں نرم اور درمیانی کووڈ علامات رکھنے والے بچوں کا علاج کیا جا ئے گا۔رندیپ نے بتا یا کہ بچوں کے علاج کے لئے اندرا گاندھی اسپتال کے ما ہرین کے ذریعہ بی بی ایم پی اسپتالوں کے ما ہر اطفال اور نرسنگ عملہ کو تر بیت دی گئی ہے اور جگ جیون رام اسپتال میں تر جیحی بنیاد پربچوں کا علاج کیا جا ئے گا۔انہوں نے بتا یا کہ بچوں کی حالت کووڈ کی وجہ سے سنجیدہ بھی ہوئی تو اس کا علاج بھی کیا جا ئے گا اگر حالت زیادہ بگڑی تو مزید سہولتوں والے اسپتال کو روانہ کیا جا ئے گا۔انہوں نے بتا یا کہ شلپا سنگھ اور پارسا سنگھ نے کووڈ مریضوں کی سہولت کے لئے ڈاکٹر بابو جگ جیون رام اسپتال کے لئے 5لاکھ ما لیت کے طبی ساز وسامان کو فراہم کیا ہے۔اس موقع پر بی بی ایم پی کے چیف طبی افسر (کلینیکل) ڈاکٹر نرملا یگی و دیگر افسران حاضر رہے۔


Share: